8 مارچ 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے رکن فلاحت پیشہ نے کہا ہے کہ مشرق وسطی اور بر صغیر ہند میں سامراجی اور امپریالسٹک معاہدوں کا زمانہ گذرچکا ہے۔

ابنا: فلاحت پیشہ نے جو پارلمنٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ ہیں افغانستان کے ساتھ امریکہ کے اسٹراٹیجیک معاہدے کے مسودے پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاھدے پردستخط ہونے سے افغانستان کے ساتھ گھناونی خیانت ہوگي۔ انہوں نے امریکی معاہدہ کی بعض شقوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اس صدی کا کیپیٹولیشن پہلا معاہدہ ہے۔ فلاحت پیشہ نے کہا کہ امریکی معاہدے کی روسے افغانستان کی فضا کا اختیار امریکہ کے ہاتھ میں آجائے گااور ایسے عالم میں جبکہ امریکہ افغانستان میں شکست اور ناکامیوں کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے واشنگٹن کو ایسی مراعات دینا نہایت تعجب کا باعث ہے۔ یادرہے افغانستان کے ساتھ امریکہ کے اسٹراٹیجک معاہدے کی رو سے امریکہ افغانستان میں جہاں چاہے دائمی، عارضی یا آپریشنل فوجی بیس بناسکتا ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران

.......کیپیٹولیشن: مَشرُوط اطاعت ۔ دَباو تَسليم کَرنے يا ماننے کا فعل - امریکی یہ معاہدہ اس سے پہلے بھی کئی ممالک پر یہ معاہدہ مسلط کرنے کی کوشش کی ہے اور ایران میں یہی معاہدہ اسلامی انقلاب کے محرکات میں شامل رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کوئی امریکی کسی ملک کے شہری پر ظلم کرے تو اس ملک میں اس پر مقدمہ نہیں چل سکے گا بلکہ امریکی عدالت ہی اپنے اس شہری پر مقدمہ چلانے کا حق رکھتی ہے لیکن اگر اس ملک میں کسی نے کسی امریکی شہری کو کوئی نقصان پہنچایا تو اس کو اسی ملک کے قوانین کے تحت سزا دلوائی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ مقابل فریق کی قومی خودمختاری کو بنیادی طور پر مجروح کردیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110